آبنائے ہرمز کا تعطل: ٹرمپ کا ایران کی “تباہی” کا دعویٰ، عالمی منڈیاں بحران کی زد میں
واشنگٹن / اسلام آباد — منگل کے روز عالمی جیو پولیٹیکل منظرنامہ اس وقت تیزی سے تبدیل ہوا جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ تہران “تباہی کے دہانے” پر ہے۔ اپنی مخصوص سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر ایک پوسٹ میں صدر نے دعویٰ کیا کہ ایران نے امریکہ سے آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھولنے کی ہنگامی درخواست کی ہے، جو کہ دنیا کی توانائی کی اہم ترین شہ رگ ہے۔ ان کے بقول، اسلامی جمہوریہ مہینوں سے جاری تباہ کن تنازع کے بعد قیادت کے بحران سے نبرد آزما ہے۔
ٹرمپ نے لکھا: “ایران نے ابھی ہمیں مطلع کیا ہے کہ وہ تباہی کے دہانے پر ہیں۔ وہ چاہتے ہیں کہ ہم آبنائے ہرمز کو جلد از جلد کھول دیں، جبکہ وہ اپنی قیادت کی صورتحال کو سنبھالنے کی کوشش کر رہے ہیں (جس کے بارے میں میرا خیال ہے کہ وہ کرنے میں کامیاب ہو جائیں گے!)۔”
یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں شدید بے یقینی کی لہر دوڑ رہی ہے۔ جہاں ٹرمپ ایک حکومت کے خاتمے کی طرف اشارہ کر رہے ہیں، وہیں اسلام آباد اور دوحہ سے آنے والی سفارتی خبریں ایک پیچیدہ تصویر پیش کرتی ہیں، جس میں پورا خطہ معاشی اور انسانی تباہی سے بچنے کی کوشش کرتا نظر آتا ہے۔
مصالحتی کوششیں: پاکستان مرکزِ نگاہ میں
امریکہ اور ایران کے درمیان براہ راست فوجی اور سفارتی تعطل کے باعث، پاکستان ایک مرکزی ثالث کے طور پر ابھرا ہے۔ قطر، جو کہ طویل عرصے سے خطے میں پل کا کردار ادا کر رہا ہے، اس نے اسلام آباد کی کوششوں کی بھرپور حمایت کی ہے۔
قطری وزارتِ خارجہ کے ترجمان ڈاکٹر ماجد محمد الانصاری نے زور دے کر کہا کہ دوحہ پاکستان کے ساتھ “مکمل یکجہتی” رکھتا ہے۔ انہوں نے بیان دیا: “ہمیں مذاکرات کے دائرے کو بڑھانے کی ضرورت نہیں، ہم پاکستانی ثالثی کی حمایت کرتے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا کہ دیگر تمام معاملات کو بالائے طاق رکھ کر آبنائے ہرمز کو فوری طور پر کھول دیا جانا چاہیے۔
تاہم، ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی کی قیادت میں جاری “شٹل ڈپلومیسی”—جنہوں نے روس جانے سے پہلے گزشتہ اختتامِ ہفتہ پر دو بار اسلام آباد کا دورہ کیا—کو ایک بڑا دھچکا لگا ہے۔ صدر ٹرمپ نے اپنے خصوصی ایلچی اسٹیو وٹکوف اور داماد جیرڈ کشنر کا دورہ اسلام آباد اچانک منسوخ کر دیا اور اس دورے کو “وقت کا ضیاع” قرار دیا
”سرخ لکیروں” سے پیدا ہونے والا تنازع
موجودہ جنگ، جس کا آغاز ایرانی فوجی اور سویلین مراکز پر امریکی اور اسرائیلی حملوں سے ہوا، اپنے پیچھے گہرے زخم چھوڑ گئی ہے۔ ان میں سب سے اہم ایک ایرانی سکول پر ہونے والا حملہ ہے جس میں تقریباً 168 اسکولی بچے جاں بحق ہوئے، اس واقعے نے ملکی اور بین الاقوامی سطح پر شدید غم و غصے کو جنم دیا ہے۔
سفارتی کشیدگی کی بنیاد اب بھی 2015 کے جوہری معاہدے (JCPOA) سے جڑی ہوئی ہے۔ اگرچہ ایران کا موقف ہے کہ اس کا جوہری پروگرام پرامن اور سویلین مقاصد کے لیے ہے، لیکن ٹرمپ کے پہلے دورِ صدارت میں اس معاہدے سے یکطرفہ علیحدگی اور اس کے بعد “انتہائی دباؤ” (Maximum Pressure) کی مہم نے اعتماد کی بنیادوں کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔
فی الوقت دونوں فریق بنیادی مسائل پر بضد ہیں۔ ایران کا مطالبہ ہے کہ آبنائے ہرمز کو اس کی اپنی نگرانی میں دوبارہ کھولا جائے اور جوہری مذاکرات شروع ہونے سے پہلے امریکی بحری ناکہ بندی ختم کی جائے۔ اس کے برعکس، ٹرمپ انتظامیہ نے علاقائی سلامتی پر سخت “سرخ لکیریں” کھینچ دی ہیں اور ایک جامع معاہدے پر اصرار کر رہی ہے جس میں یورینیم کی افزودگی اور فوجی سرگرمیاں بیک وقت زیرِ بحث لائی جائیں۔
معاشی اثرات: عالمی نقصان
عالمی منڈیوں کے لیے اب تیل کی “فطری ترسیل” ہی واحد پیمانہ رہ گیا ہے۔ اس تنازع سے پہلے، روزانہ تقریباً 140 جہاز اس آبنائے سے گزرتے تھے، لیکن کل یہ تعداد کم ہو کر صرف سات رہ گئی۔
گمنام ٹینکرز: ایرانی خام تیل سے لدے کم از کم چھ ٹینکرز کو حال ہی میں امریکی بحری ناکہ بندی کے باعث واپس ایران جانے پر مجبور کر دیا گیا۔
قیمتوں میں اضافہ: تیل کی قیمتوں میں اضافے کا رجحان دوبارہ شروع ہو گیا ہے کیونکہ تاجروں کو اندازہ ہو رہا ہے کہ یہ “دوہری ناکہ بندی”—امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی بندش اور ایران کی طرف سے آبنائے ہرمز پر پابندی—ختم ہونے کے آثار نظر نہیں آ رہے۔
قزاقی کے الزامات: تہران نے امریکی بحریہ کی جانب سے اپنے ٹینکرز کو قبضے میں لینے کی مذمت کرتے ہوئے اسے “سمندروں میں مسلح ڈکیتی اور قزاقی کو قانونی شکل دینے” کے مترادف قرار دیا ہے۔
آگے کا راستہ: حل یا تعطل؟
ایرانی حکام کا اشارہ ہے کہ اسلام آباد میں عراقچی کی تجویز ان مسائل کو ایک دوسرے سے الگ (decouple) کرنے کی تھی: یعنی پہلے جنگ اور بحری ناکہ بندی کو ختم کیا جائے اور اس بات کی ضمانت دی جائے کہ امریکہ دوبارہ جارحیت نہیں کرے گا، جبکہ جوہری افزودگی کے پیچیدہ تنازع کو اگلے مرحلے کے لیے رکھ دیا جائے
تاہم، وائٹ ہاؤس اب بھی شکوک و شبہات کا شکار ہے۔ گرتی ہوئی مقبولیت اور جنگ کی بدلتی ہوئی وجوہات سے تنگ آئی ہوئی عوام کے دباؤ کے درمیان، ٹرمپ اپنے “انتہائی دباؤ” کے نظریے اور داخلی سطح پر جنگ سے نکلنے کے مطالبے کے درمیان توازن پیدا کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔
چونکہ امریکہ “میڈیا کے ذریعے مذاکرات” سے انکار کر رہا ہے، اس لیے دنیا اب اس انتظار میں ہے کہ آیا ٹرمپ کا ایرانی “تباہی” کا دعویٰ کسی بڑی سفارتی کامیابی کا پیش خیمہ ثابت ہوگا یا یہ ایک حتمی اور زیادہ خطرناک تصادم کا آغاز ہے۔
